ملبورن، 18/اگست (آئی این ایس انڈیا) آسٹریلیا میں ایک مسودہ قانون زیرِ غور ہے جس کے تحت گوگل اور فیس بک جیسی بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹس پر خبریں شائع کرنے کے لیے آسٹریلیا کے ذرائع ابلاغ کے اداروں کو معاوضہ ادا کرنا ہو گا۔
گوگل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر خبروں کے مواد کی اشاعت کا معاوضہ ادا کرنا پڑ گیا تو اس سے آسٹریلیا کے لوگوں کی ذاتی معلومات خطرے میں پڑ جائیں گی۔یہ مسودہ قانون گزشتہ ماہ تیار کیا گیا ہے۔
اس سے قبل آسٹریلیا کی حکومت اور امریکہ کے بڑے ٹیکنالوجی کے اداروں فیس بک اور گوگل کے درمیان مہینوں تک مذاکرات ہوتے رہے۔ جو بے نتیجہ ثابت ہوئے۔
پیر کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے لیے گوگل کی مینیجنگ ڈائریکٹر میلینی سلوا نے ایک کھلا خط آن لائن پوسٹ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو آسٹریلوی عوام کا ذاتی ڈیٹا بڑی میڈیا کمپنیوں کے پاس چلا جائے گا۔ جس سے ان کی سرچ کرنے کی درجہ بندی خود بخود بڑھ جائے گی۔
سلوا نے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ گوگل اور یوٹیوب جو خدمات مفت دیتا ہے۔ ان پر ضرب پڑے گی اور اس کے نتیجے میں آسٹریلیا کے لوگوں کو ایسی خدمات حاصل کرنے کے لیے قیمت ادا کرنی ہو گی۔
آسٹریلیا کے مسابقت اور صارفین کے کمیشن کے سربراہ روڈ سمز نے گوگل کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون میں یہ نہیں کہا گیا کہ گوگل کسی صارف کی ذاتی معلومات دوسرے کے حوالے کرے یا تلاش کرنے کی خدمات کا معاوضہ طلب کرے۔
گوگل کی عہدیدار کا یہ کھلا خط ایک ایسے وقت پوسٹ کیا گیا ہے جب اس مجوزہ قانون کے بارے میں عوام سے مشورہ کیا جا رہا ہے اور ان کی رائے معلوم کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی برس سے آسٹریلیا کی میڈیا کمپنیوں کو کم اشتہارات مل رہے تھے۔